• Sun. Oct 25th, 2026

MyKashmir

Kashmir eServices – Your Digital Bridge to the Valley’s Heartbeat

تنگ دستی کے دھاگے

تنگ دستی کے دھاگے

زندگی الجھ گئی ہے تنگ دستی کے دھاگوں میں

کوئی اپنا پاس نہیں جو سہارا دے اندھیروں میں

وقت نے ایسے دکھائے ہیں زمانے کے سبھی چہرے
دوست بھی شامل نظر آئے کئی سازش کے گھیرؤں میں
جس کو اپنا جان کر ہم نے دل کا حال سنبھالا تھا
وہی چھوڑ آیا ہمیں درد کے سنسان ڈیروں میں
ہر طرف مطلب کی دنیا، ہر طرف رشتوں کی تجارت
کون ڈھونڈے خلوص اب اس دھوکے کے بسیروں میں
رات بھر آنکھوں نے اشکوں سے لکھی اپنی کہانی ہے
چاند بھی تنہا نظر آیا فلک کے سب ستاروں میں
بھوک نے عزت کے دروازے پہ کیسی دستکیں دیں ہیں
عمر گزری سر جھکائے خواہشوں کی زنجیروں میں
میرے رب! اتنی کرم کی اک نظر ہو زندگی پر بھی
سانس باقی ہے ابھی تک ٹوٹتے ہوئے سفیروں میں
ہم نے سیکھا ہے مصیبت میں بھی جینا مسکرا کر
پھول بھی کھلتے ہیں آخر خار و خس کے ڈھیروں میں

“جاوید” اپنے زخم دل کے چھپ نہیں سکتے کبھی

درد کی خوشبو بسی رہتی ہے ٹوٹے دل کے ہیروں میں

By: Javid Amin (Javid Kashmiri)
यह कविता गरीबी, अकेलेपन, टूटे विश्वास और जीवन के संघर्षों की कहानी कहती है। रिश्तों की सच्चाई, हालात की मजबूरियाँ और दिल के दर्द को बयां करते हुए यह अंत में उम्मीद का संदेश देती है कि कांटों के बीच भी फूल खिलते हैं और मुश्किलें इंसान को मजबूत बनाती हैं।
जीवन के सबक, दैनिक विचार, उर्दू शायरी, जीवन की सच्चाई, संघर्ष, अकेलापन, प्रेरक कविता, दर्द भरी शायरी, उम्मीद, आत्मविकास, सकारात्मक सोच, कठिन समय, जीवन ज्ञान, प्रेरणादायक विचार, गहरे विचार, भावनात्मक कविता